دولت کا نشہ، عبرت کی داستان

معروف تاجر وصنعتکار فائیو سٹار ہوٹل کی لابی میں بیٹھا اپنی سوچوں میں گُم ہے. وہ ہمیشہ الجزائر کے دارالحکومت کے اسی ہوٹل میں ٹھہرتا ہے. اسکے سامنے بحیرہ روم کا نیلگوں پانی حد نگاہ تک پھیلا ہوا ہے. پانی کی لہریں اٹھتیں اور ساحل تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتیں. دور سے بادل ہوا کے دوش پر تیرتے ہوئے آئے اور نیلے آسمان پر چھا گئے. موسم معتدل تھا، گرمی نہ سردی. اسکے سامنے میز پہ چائے رکھی ہوئی تھی. اس نے بادلوں کی طرف دیکھا اور خود کلامی کرنے لگا : کتنے خوبصورت ہیں یہ بادل، کبھی نہیں رکتے…… تمہاری زندگی بھی تو ایسی ہی ہے نا، مسلسل جدوجہد اور کوشش میں سرگرداں، کبھی نہ رکنے والی، کبھی نہ تھمنے والی، ساری زندگی سرمائے کے پیچھے دوڑتے گزر گئی. میں نے زندگی میں کتنے سفر کیےہیں، بالکل ان بادلوں کی طرح جن کا کوئی نشانِ منزل نہیں. کبھی یہاں کبھی وہاں، آج اس ملک میں، کل اس ملک میں. آج یہاں نمائش لگی ہے، کل وہاں صنعتی میلہ ہے، آج یورپ میں کاروباری میٹنگ ہے تو کل عرب ممالک میں. ایک ہی منزل ایک ہی تمنا کہ میں کسی طرح دنیا کا کامیاب بزنس مین بن جاؤں، دنیا کے چند امیر کبیر لوگوں میں میرا بھی نام ہو، میں ارب پتی کہلاؤں……. یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے اس نے کتنی کڑی محنت کی، کتنا وقت بیرون ملک گزارا….. اس نے اپنے آپ سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا : تمہاری کتنی راتیں بیوی بچوں کے ساتھ گزری ہیں اور کتنی فائیو سٹار ہوٹلوں میں…… یقیناً جو وقت بیوی بچوں کے بغیر گزارا ہے وہ زندگی کا ایک بڑا حصہ ہے.
پھر وہ قد آدم آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا. اپنی شکل دیکھ کر چونک پڑا…..اف یہ میرا چہرہ ہے؟ اف خدایا! میری جوانی کہاں چلی گئی؟ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا.
بلاشبہ میں نے بڑی دولت جمع کر لی ہے، میں بڑا معروف بزنس مین بن گیا ہوں، میری خوبصورت سی بیوی ہے اور میرا پیارا سا بیٹا بھی ہے، بیوی اور بچے کا خیال آتے ہی اس کے دل میں فرحت کا احساس بیدار ہو. اب تو میرا بیٹا جوان ہو گیا ہے، میری ساری جائیداد کا تنہا وارث….. کاش! ان لمحات میں میری بیوی اور میرا اکلوتا بیٹا میرے پاس ہوتے….. میری اس سے آخری سرسری ملاقات آج سے چند ماہ پہلے ہوئی تھی. شاید وہ اٹھارویں سال میں ہے. مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ انجینئرنگ یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہے. بس اب وہ انجینئر بننے ہی والا ہے.
احمد ان ہی تصورات میں گم تھا کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی. ٹرن…. ٹرن کی آواز دم بدم آ رہی تھی، اس نے آنکھیں کھولیں. لپک کر ریسیور پکڑا…. کال قاہرہ سے آرہی تھی…. فون پہ اسکا بڑا بھائی بات کررہا تھا، اس نے ریسیور کان سے لگایا. وہ کہہ رہا تھا : ” فوراً پہنچ جاؤ…. تمہاری بیوی خطرے کی حالت میں ہے…. فوراً آجانا…. کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے دیکھ ہی نہ سکو…. ہاں ہاں، ٹریفک کے حادثے میں شدید زخمی ہوگئی ہے….. ہاں، حالت سخت خطرناک ہے”. 
احمد نے کہا:” اسے فوراً خصوصی طیارے کے ذریعے یورپ منتقل کردو، میں بھی وہاں پہنچ جاؤنگا. چاہے کتنی ہی رقم خرچ ہو جائے، کوئی پروا نہیں….. بس اسے زندہ رہنا چاہئے “. 
” جلدی آجاؤ ہم علاج کرا رہے ہیں، بس تم لیٹ نہ ہونا”
فون کال ختم ہو گئی، اس نے ریسیور رکھا….. پھر وہ ارب پتی، بچوں کی طرح رونے لگا. 
وہ فوراً پہلی فلائٹ پر قاہرہ کے لیے روانہ ہو گیا. ائرپورٹ پہ اسکا بڑا بھائی اسکے انتظار میں تھا، کئی سال بعد اس سے ملاقات ہو رہی تھی. انکی باہمی ملاقات میں اتنی طویل مدت کے خلا کا سبب کاروباری مسائل اور مصروفیات تھیں. برسوں بعد دونوں بغلگیر ہوئے. بزنس مین نے بڑی بے تابی سے اپنے بڑے بھائی سے پوچھا : ” اب میری بیوی کیسی ہے؟” 
بھائی نے بڑے غمگین لہجے میں جواب دیا: تمہاری بیوی اب اس دنیا میں نہیں رہی.. 
                                                     (جاری ہے) 
بقیہ اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *